طلسمِ ہوش رُبا / Tilism-e Hoshruba
طلسمِ ہوش رُبا / Tilism-e Hoshruba
طلسمِ ہوش رُبا / Tilism-e Hoshruba
KITAB

طلسمِ ہوش رُبا / Tilism-e Hoshruba

Regular price PKR 5,000 PKR 0 Unit price per

تعارف:

طلسمِ ہوش‌رُبا اردو کی مقبول ترین داستان، داستانِ امیر حمزہ، کا ایک جزو ہے اور اپنی جگہ ایک مکمل داستان بھی ہے۔ طلسمِ ہوش‌رُبا پہلی مرتبہ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے سنہ ۱۸۸۴ میں شائع ہونا شروع ہوئی اور آٹھ جلدوں میں ۱۸۹۳ میں مکمل ہوئی۔ اس کی پہلی چار جلدیں سید محمد حسین جاہؔ اور آخری چار جلدیں احمد حسین قمر نے تالیف کیں۔ اس جدید اشاعت کے لیے طلسمِ ہوش‌رُبا کی آٹھ جلدوں میں ہر جلد کو تین حصّوں میں تقسیم کیا گیا۔ زیرِ نظر کتاب ان مجوّزہ چوبیس جلدوں کے سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔

پراجیکٹ ہوش رُبا کے بارے میں یہاں پڑھیے۔

عنوان: طلسمِ ہوش رُبا (اردو)
مولف: سید محمد حسین جاہ
مرتب: مشرف علی فاروقی
فرہنگ: عبدالرشید
تراجم فارسی اشعار: احمد محفوظ
ناشر: کتاب (پرائیویٹ) لمیٹڈ
سیریز: اردو کلاسیکی ادب

صفحات: 544
جلد اول
طبع: مجلد
ISBN: 978-969-616-079-3
قیمت (پاکستان): PKR 5,000
قیمت (بیرونِ ملک): US$50 + Shipping by FedEx/DHL
Shipping Rates for Overseas Orders (Subject to Change)*
USA/Canada=US$50, UK/Europe=US$46, UAE=US$30, AUS=US$70
 Email us at: info@kitab.com.pk for overseas orders

مولفینِ طلسمِ ہوش ربا (نول کشوری روایت)

سید محمد حسین جاہؔ (سنِ پیدائش ؟- سنِ وفات ۱۸۹۱-۱۸۹۳؟) ان کے والد سید غلام حسین علمِ رمل کے عالم تھے اور وہی ان کا پیشہ بھی تھا۔ محمد حسین جاہ لکھنؤ میں نثرخوانی اور داستان گوئی کرتے تھے۔ انھیں نثرخوانی میں میر فداعلی فدا سے تلمذ تھا اور فنِ خوش نویسی میں وہ منشی اشرف علی اشرف کے شاگرد تھے۔ طلسمِ ہوش‌رُبا (نول کشوری روایت) کی پہلی چار جلدوں سے قبل انھوں نے ایک مختصر داستان طلسمِ فصاحت کے نام سے بھی لکھی۔

احمد حسین قمر (سنِ پیدائش ؟- سنِ وفات ۱۹۰۱) سنہ ۱۸۵۷کی جنگِ آزادی میں احمد حسین قمر کے دو بھائی کام آئے۔ ذریعۂ معاش کے طور پر انھوں نے وکالت کی سند حاصل کرنا چاہی لیکن اس میں کامیابی نہ ہونے پر انھوں نے نثاری اور داستان گوئی کا پیشہ اختیار کیا۔ قمر نے طلسمِ ہوش‌رُبا (نول کشوری روایت) کی آخری چار جلدوں کے علاوہ کچھ اور داستانیں بھی لکھیں۔

 مرتبِ طلسمِ ہوش‌رُبا (کتاب ایڈیشن)

مشرف علی فاروقی ناول نویس، داستان شناس اور ترجمہ نگار ہیں، اور بچوں کے ادب، لوک روایات اور کلاسیکی  متون میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فاروقی نے اردو کلاسیکی متون ’داستانِ امیر حمزہ،‘  ’طلسم ہوش‌رُبا،‘ اور انیسویں صدی کے کچھ قصوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ اردو تھیسارس کے مدیر، کہانیوں کے ذریعے زبان سکھانے کے اسٹوری کٹ پروگرام کے بانی، اور اشاعتی ادارے کتاب کے سربراہ ہیں۔